اناؤ24اگست (ایس او نیوز؍ آئی این ایس انڈیا ) موصولہ اطلاع کے مطابق اناؤ میں بی جے پی رکن اسمبلی کلدیپ سنگھ سینگر کے مبینہ ملوث ہونے والے عصمت دری اور قتل کے کیس کے ایک گواہ کی مبینہ طور پر بیماری سے موت ہو گئی ہے ۔ متوفی کا نام یونس ہے اور مبینہ عصمت دری متاثرہ کے چچا کے مطابق یونس متاثرہ کے والد کو بی جے پی ممبر اسمبلی کے بھائی اور دوسرے لوگوں کی طرف وحشیانہ پیٹا جانے کا گواہ تھا۔
سفیر پور پولیس علاقائی وویک رنجن رائے نے جمعرات کو بتایا کہ یونس کی موت گزشتہ18 اگست کو موت ہو گئی تھی۔ وہ لیور سر وسس میں مبتلا تھا اور اس کے لواحقین کی طرف سے پیش کئے گئے علاج سے متعلق پرچوں سے یہ پتہ چلتا ہے کہ اسے لیور کی بیماری تھی۔ یونس کا کانپور، اناؤ اور لکھنؤ میں علاج کیا گیا تھا ۔ اس کے خاندان کے لوگ اس کی لاش کا پوسٹ مارٹم نہیں کرانا چاہتے تھے۔ رشتہ داروں کا کہنا ہے کہ یونس گزشتہ قریب تین ماہ سے بیمار تھا اور گھر میں علاج کے دوران اس کی موت ہوگئی۔
رائے نے بتایا کہ ایک لڑکی سے مبینہ طور پر عصمت دری اور اس کے والد کی مشتبہ حالات میں موت کے معاملے کی تحقیقات کر رہی سی بی آئی یونس کا بیان پہلے ہی ریکارڈ کر چکی ہے۔ اس دوران مبینہ عصمت دری کی شکار لڑکی کے چچا نے اناؤ کے پولیس سپرنٹنڈنٹ کو ایک خط لکھ کر الزام لگایا کہ یونس کی لاش کو پوسٹ مارٹم کرائے بغیر دفنا دیا گیا۔ اس کی لاش کو قبر کھود کر نکلوایا جانا چاہئے اور پوسٹ مارٹم کرایا جانا چاہئے تاکہ اس کی موت کی اصل وجہ کا علم ہوسکے ۔اگرچہ یونس کے بھائیوں رئیس اور جان محمد نے جمعرات کو پولیس سپرنٹنڈنٹ آفس جاکر بتایا کہ ان کے بھائی کی موت لیور کی بیماری کی وجہ سے ہوئی ہے۔ معلوم ہو کہ اناؤ کی 17 سالہ نابالغ نے بی جے پی ممبر اسمبلی کلدیپ سنگھ سینگر اور ان کے بھائی اور ان کے دیگر ساتھیوں پر اجتماعی عصمت دری کا الزام لگایا تھا۔ اسی دوران اس کے والد کی مبینہ طور پر پولیس کی حراست میں پیٹنے کے بعد موت ہو گئی تھی۔
اس معاملے کو لے کر حکومت کو کافی تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا جس کے بعد ریاست کی یوگی آدتیہ ناتھ حکومت نے 12 اپریل کو پورے معاملے کی جانچ سی بی آئی کو سونپ دی تھی۔ عینی شاہد کی موت کے اس واقعہ پر کانگریس صدر راہل گاندھی نے تلخ تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اس کے پیچھے سازش کی بو نظر آ رہی ہے ۔وہیں مبینہ عصمت دری معاملے کی تفتیش کر رہی سی بی آئی نے کہا کہ گواہوں کا تحفظ ریاستی پولیس کی ذمہ داری ہے اور یہ مرکزی ایجنسی کے ذیل میں نہیں آتا ہے ۔ اترپردیش پولیس نے اس سلسلے میں سی بی آئی کے ساتھ معلومات کا اشتراک کردیا ہے ۔
پولیس نے کہا ہے کہ یونس نامی گواہ گزشتہ کچھ وقت سے مبینہ طور پر بیمار چل رہا تھا۔واضح ہوکہ راہل نے خبر کو ری ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا کہ لکھا کہ بی جے پی ممبر اسمبلی کلدیپ سینگر کے ملوث ہونے والے اناؤ عصمت دری اور قتل معاملے کے اہم عینی شاہد کی پراسرار ہوئی موت اور لاش کو پوسٹ مارٹم کے بغیر بہ عجلت تدفین سے سازش کی بو آتی ہے۔ کیا ہماری بیٹیوں کے لئے انصاف کا بہتر یہی طریقہ ہے، مسٹر 56؟ ۔یونس سی بی آئی کے اس صورت میں ایک گواہ تھا جو رکن اسمبلی اتل سنگھ سانگر کے بھائی اور چار دیگر طرف سے عصمت دری متاثرہ کے والد کی بری طرح پٹائی کرنے سے منسلک ہے. اس تیز کی وجہ سے متاثرہ کے والد کی موت ہو گئی تھی۔
غور طلب ہے کہ عصمت دری متاثرہ کے والد کی جیل میں موت ہو گئی تھی جہاں اسے آرمس ایکٹ کے مبینہ جھوٹے الزامات کے تحت رکھا گیا تھا۔وہیں یونس کا خاندان اس سلسلے میں کسی بھی سازش سے نہ صرف انکار کیا ہے بلکہ متاثرہ کے چچا پر ہی الزام لگایا ہے کہ اس نے یونس کے جسم کو قبر سے نکال کر پوسٹ مارٹم کے لئے بھیجنے کے لئے پیسے کی پیشکش کی ہے۔یونس کے بھائی جان محمد نے کہا کہ انہوں نے ہمیں پیسوں کی پیشکش کی لیکن ہم نے ٹھکرا دی۔ ہم کسی بھی حالت میں اپنے بھائی کی لاش قبر کھود کر نہیں نکالنا چاہتے ۔تاہم متاثرہ کے چچا کا کہنا ہے کہ یونس کا خاندان دھمکیوں کا سامنا کر رہا تھا۔ چچا نے کہا کہ انہیں سینگر کی طرف سے دھمکیاں مل رہی ہیں اسی وجہ سے وہ ایسا کہہ رہے ہیں۔